فتنہ ہے، تعصب ہے، بندوق ہے ، گولی ہے
اِس شہر میں ہر لحظہ بس خون کی ہولی ہے
اک نام لیا اُس نے کچھ ایسی محبت سے
گویا مرے کانوں میں شیرینی سی گھولی ہے
پت جھڑ کی وہی شامیں، آنسو بھی نظر آئے
یادوں کی کوئی کھڑکی جب آنکھ نے کھولی ہے
اک بار نظر بھر کے دیکھا ہے مجھے اُس نے
اک آن میں یہ ہستی مخمور ہے ڈولی ہے
میرا نہ تھا وہ کل بھی، سمجھا ہے یہ اب میں نے
ہر بات محبت کی ادراک میں تولی ہے
جبرانؔ سیہ شب میں وہ مل نہ سکا ہم کو
ہر کنج میں ڈھونڈا ہے، ہر راہ ٹٹولی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ تم سے کچھ کہوں گا میں، نہ اب تم کو مناؤں گا
تمہیں بس اک نظر دیکھوں گا اور پھر لوٹ جاؤں گا
مرے بس میں اگر ہوتا ، جتن کوئی میں کر لیتا
مگر تم دل کی دھڑکن ہو، تمہیں کیسے بھلاؤں گا
عبادت اس سے بڑھ کر اور کوئی ہو نہیں سکتی
کسی روتے ہوئے بچے کو سینے سے لگاؤں گا
اگر ٹوٹے ہوئے پر ہوں، پرندہ اڑ نہیں سکتا
تمہارے شہر سے ہجرت کبھی میں کر نہ پاؤں گا
مرے دشمن سے یہ کہہ دو، مرے معیار تک پہنچے
میں اُس کو گھر بلائوں گا، اُسے کھانا کھلاؤں گا
کئی پردہ نشینوں کے ابھی کردار کھلنے ہیں
کبھی فرصت ملی تو داستاں اپنی سناؤں گا
ملے گا کچھ نہیں لیکن ذرا تسکین تو ہو گی
میں تصویریں تری سب ہاتھ سے اپنے جلاؤں گا
مجھے معلوم ہے سب کون مجھ کو ورغلاتا ہے
میں اب جبران ؔ اپنے دل کی باتوں میں نہ آؤں گا
